اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ قانون کے مطابق اسلامی اصولوں کی روشنی میں پاکستان کے عوام کی خدمت کرنا اور عدل و انصاف کے ساتھ انسانی جانوں کا تحفظ کرنا۔ قوم کی تعمیر و ترقی کے لیے خدمت، قربانی اور خلوص کے جذبے کے ساتھ کردار ادا کرنا، اور پاکستان کے عوام کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنا۔
القائم ٹرسٹ پاکستان کراچی میں رجسٹریشن نمبر (KAR/EAST/043/2025) کے تحت باقاعدہ طور پر رجسٹرڈ ایک فلاحی ادارہ ہے۔ اس کی ابتدا چند پُرجوش، باصلاحیت اور خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار نوجوانوں کی جانب سے عوامی فلاح و بہبود کے چھوٹے پیمانے کے منصوبوں سے ہوئی۔ بعد ازاں سن ۲۰۰۸ء میں ممتاز دینی و مذہبی رہنما حجۃ الاسلام علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی کی سرپرستی، رہنمائی اور فکری تحریک کے زیرِ سایہ اس ادارے کی باقاعدہ بنیاد رکھی گئی اور اس کے تنظیمی ڈھانچے کو مستحکم اور منظم شکل دی گئی۔
اپنے قیام کے آغاز سے ہی القائم ٹرسٹ پاکستان انسانی خدمت، سماجی بہبود، رفاہِ عامہ اور مستحق افراد کی مدد کو اپنا نصب العین بنائے ہوئے ہے، اور معاشرے کے کمزور اور ضرورت مند طبقات کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔
آپ کا شمار پاکستان کے ان جلیل القدر اور صاحبِ اثر علمائے دین میں ہوتا ہے جن کے معتقدین اور عقیدت مند نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں کروڑوں کی تعداد میں موجود ہیں۔
آپ کو ارضِ پاک کے طول و عرض میں متعدد فلاحی و تعلیمی اداروں کی تاسیس کا منفرد اعزاز حاصل ہے۔ آپ نے سنہ 1975 میں سندھ کے تاریخی و مذہبی شہر خیرپور کے ایک علمی و روحانی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ ابتدائی تعلیم خیرپور اور حیدرآباد کے مراکزِ علم سے حاصل کرنے کے بعد، آپ اعلیٰ دینی تعلیم کی تڑپ لیے ایران کے شہرِ مقدس ’قم‘ تشریف لے گئے اور وہاں کے عظیم ’حوزہ علمیہ‘ سے کسبِ فیض کیا۔ اسی تعلیمی دور کے دوران ہی آپ نے سماجی بہبود اور رفاہِ عامہ کے مبارک مشن کا آغاز فرمایا۔
آپ کا شمار پاکستان کے ان جلیل القدر اور صاحبِ اثر علمائے دین میں ہوتا ہے، جن کے عقیدت مندوں اور پیروکاروں کا حلقہ نہ صرف پاکستان بلکہ اقصائے عالم تک پھیلا ہوا ہے۔ آپ کو ارضِ پاک کے طول و عرض میں متعدد علمی، دینی اور فلاحی اداروں کی تاسیس کا منفرد اعزاز حاصل ہے۔
ولادت اور ابتدائی زندگی:
آپ نے سنہ 1975 میں سندھ کے تاریخی اور مذہبی شہر خیرپور کے ایک معزز و دیندار گھرانے میں آنکھ کھولی۔ آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم کے مراحل خیرپور اور حیدرآباد کے مراکزِ علم سے طے کیے، جس کے بعد اعلیٰ دینی تعلیم کی تڑپ آپ کو ایران کے شہرِ مقدس قم لے گئی، جہاں آپ نے عالمِ اسلام کے عظیم علمی مرکز ’حوزہ علمیہ‘ سے کسبِ فیض کیا اور وہیں سے سماجی و فلاحی سرگرمیوں کا آغاز فرمایا۔
خطابت سے خدمتِ خلق تک:
اگرچہ چیئرمین صاحب کی بنیادی شناخت اور شہرت کا حوالہ ’فنِ خطابت‘ ہے، تاہم تبلیغِ دین کے اس سفر میں عوام الناس سے مسلسل رابطے اور ان کے احوال نے آپ کو عوامی مسائل اور ان کی محرومیوں کا گہرا ادراک بخشا۔
چنانچہ خدمتِ خلق کے اسی مقدس جذبے سے سرشار ہو کر آپ نے ملک بھر سے مخلص اور باصلاحیت افراد کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کیا اور ’القیم ٹرسٹ پاکستان‘ کی بنیاد رکھی؛ ایک ایسا مثالی فلاحی ادارہ جو معاشرے کے پسماندہ، مستحق اور نادار طبقات کی بے لوث خدمت کے لیے ہمہ وقت وقف ہے۔
آپ کا شمار پاکستان کے ان جلیل القدر اور صاحبِ اثر علمائے دین میں ہوتا ہے جن کے معتقدین اور عقیدت مند نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں کروڑوں کی تعداد میں موجود ہیں۔
آپ کو ارضِ پاک کے طول و عرض میں متعدد فلاحی و تعلیمی اداروں کی تاسیس کا منفرد اعزاز حاصل ہے۔ آپ نے سنہ 1975 میں سندھ کے تاریخی و مذہبی شہر خیرپور کے ایک علمی و روحانی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ ابتدائی تعلیم خیرپور اور حیدرآباد کے مراکزِ علم سے حاصل کرنے کے بعد، آپ اعلیٰ دینی تعلیم کی تڑپ لیے ایران کے شہرِ مقدس ’قم‘ تشریف لے گئے اور وہاں کے عظیم ’حوزہ علمیہ‘ سے کسبِ فیض کیا۔ اسی تعلیمی دور کے دوران ہی آپ نے سماجی بہبود اور رفاہِ عامہ کے مبارک مشن کا آغاز فرمایا۔
آپ کا شمار پاکستان کے ان جلیل القدر اور صاحبِ اثر علمائے دین میں ہوتا ہے، جن کے عقیدت مندوں اور پیروکاروں کا حلقہ نہ صرف پاکستان بلکہ اقصائے عالم تک پھیلا ہوا ہے۔ آپ کو ارضِ پاک کے طول و عرض میں متعدد علمی، دینی اور فلاحی اداروں کی تاسیس کا منفرد اعزاز حاصل ہے۔ ولادت اور ابتدائی زندگی: آپ نے سنہ 1975 میں سندھ کے تاریخی اور مذہبی شہر خیرپور کے ایک معزز و دیندار گھرانے میں آنکھ کھولی۔ آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم کے مراحل خیرپور اور حیدرآباد کے مراکزِ علم سے طے کیے، جس کے بعد اعلیٰ دینی تعلیم کی تڑپ آپ کو ایران کے شہرِ مقدس قم لے گئی، جہاں آپ نے عالمِ اسلام کے عظیم علمی مرکز ’حوزہ علمیہ‘ سے کسبِ فیض کیا اور وہیں سے سماجی و فلاحی سرگرمیوں کا آغاز فرمایا۔ خطابت سے خدمتِ خلق تک: اگرچہ چیئرمین صاحب کی بنیادی شناخت اور شہرت کا حوالہ ’فنِ خطابت‘ ہے، تاہم تبلیغِ دین کے اس سفر میں عوام الناس سے مسلسل رابطے اور ان کے احوال نے آپ کو عوامی مسائل اور ان کی محرومیوں کا گہرا ادراک بخشا۔ چنانچہ خدمتِ خلق کے اسی مقدس جذبے سے سرشار ہو کر آپ نے ملک بھر سے مخلص اور باصلاحیت افراد کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کیا اور ’القیم ٹرسٹ پاکستان‘ کی بنیاد رکھی؛ ایک ایسا مثالی فلاحی ادارہ جو معاشرے کے پسماندہ، مستحق اور نادار طبقات کی بے لوث خدمت کے لیے ہمہ وقت وقف ہے۔