رضاکار بنیں

شرائط و ضوابط

اے کیو ٹی پاکستان میں ہم اُن پرجوش افراد کا خیرمقدم کرتے ہیں جو محروم طبقات کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔ اگر آپ رضاکار بننا چاہتے ہیں تو آپ کو درج ذیل شرائط پوری کرنا ہوں گی۔

عمر کی شرط

عمر کم از کم 18 سال ہونی چاہیے۔
16 سے 17 سال کے افراد والدین یا سرپرست کی اجازت سے رضاکار بن سکتے ہیں۔

وابستگی اور دستیابی

رضاکار کو ہفتے میں کم از کم 4 گھنٹے دینے کے لیے تیار ہونا چاہیے۔
کم از کم 3 ماہ تک رضاکارانہ خدمات انجام دینے کا عزم ہونا چاہیے (مختصر مدتی منصوبوں کے لیے لچک موجود ہے)۔
ضرورت پڑنے پر تقریبات، فنڈ ریزرز اور آگاہی پروگرامز میں شرکت کے لیے دستیاب ہونا چاہیے۔

جذبہ اور اقدار

کمیونٹی سروس اور سماجی فلاح و بہبود کے لیے مضبوط جذبہ ہونا چاہیے۔
اے کیو ٹی پاکستان کے مشن اور اقدار سے ہم آہنگی ضروری ہے۔
ثقافتی اور مذہبی حساسیت کا احترام کرنا لازمی ہے۔

مہارتیں اور تجربہ (ترجیحی مگر لازمی نہیں)

ہم ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے رضاکاروں کا خیرمقدم کرتے ہیں، تاہم درج ذیل مہارتوں کو ترجیح دی جاتی ہے:

  • تدریس اور تربیت – ہیلتھ اینڈ ایجوکیشن فرسٹ مہم کے تعلیمی پروگرامز کے لیے۔
  • ایونٹ مینجمنٹ – فلاحی تقریبات، میلاد اور کمیونٹی اجتماعات کے انتظام میں معاونت۔
  • طبی معاونت – طبی شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد صحت کے منصوبوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔
  • مارکیٹنگ اور فنڈ ریزنگ – منصوبوں کے لیے آگاہی پھیلانا اور فنڈز جمع کرنا۔
  • سوشل میڈیا مینجمنٹ – آن لائن انگیجمنٹ اور کانٹینٹ کی تیاری میں مدد۔
  • انتظامی معاونت – دستاویزات اور این جی او کے انتظامی امور میں تعاون۔

کردار اور اخلاقیات

غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا کوئی ریکارڈ نہیں ہونا چاہیے۔
اے کیو ٹی پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے اخلاقی رویہ اور پیشہ ورانہ طرزِ عمل برقرار رکھنا ضروری ہے۔

درخواست اور انتخاب کا طریقہ کار

رضاکارانہ درخواست فارم پُر کریں (ویب سائٹ یا دفتر میں دستیاب)۔
شناخت کی تصدیق کے لیے CNIC یا پاسپورٹ کی کاپی جمع کروائیں۔
موزونیت جانچنے کے لیے مختصر انٹرویو (آن لائن یا بالمشافہ) میں شرکت کریں۔
کام شروع کرنے سے پہلے مختصر اورینٹیشن سیشن میں حصہ لینا ضروری ہے۔

ضابطۂ اخلاق

اے کیو ٹی پاکستان کی پالیسیوں پر عمل کرنا اور رازداری برقرار رکھنا ضروری ہے۔
تمام رضاکاروں کے ساتھ احترام، ذمہ داری اور باہمی تعاون کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔
نسل، مذہب یا جنس کی بنیاد پر کسی بھی قسم کا امتیازی سلوک قابل قبول نہیں ہوگا۔